محمد علی سدپارا اور آکسیجن!

محمد علی سدپارا کون تھا؟ اکثریت کی نگاہ میں ایک قومی ہیرو۔ دنیا میں8ہزار میٹر سے بلند صرف چودہ چوٹیاں پائی جاتی ہیں ۔ محمد علی سدپارا نے ان میں سے آٹھ فتح کر رکھی تھیں۔ تقدیر مہلت دیتی تو کوئی شک نہیں کہ باقیوں کو بھی اس نے روند ڈالنا تھا۔ اسے حکومتِ پاکستان کی طرف مالی تعاون بھی حاصل تھی۔

وہ ایک محنت کش تھا۔ اس قصبے سے اس کا تعلق تھا، جہاں کے باسی اپنا پیٹ بھرنے کے لیے کوہ پیمائوں کا سامان ڈھویا کرتے ۔ اتنے وسائل ان کے پاس نہیں تھے کہ وہ خود انتہائی مہنگی کٹ خرید کر چوٹیاں سر کرنے کا خواب دیکھ سکتے ۔ محمد علی نے اِس ناممکن کو ممکن کر دکھایا ۔2016 میں جب اس نے نانگا پربت کو سردیوں میں پہلی بار فتح کیا تو اس کا سورج نصف النہار پہ چمکنے لگا۔ اس کے بعد اس نے مڑ کر نہیں دیکھا۔

لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہیلی کاپٹر اور ہوائی جہاز ایجاد ہونے کے بعد کیا یہ پاگل پن نہیں کہ آپ پیدل پہاڑ سر کرنے کے لیے نکل کھڑے ہوں؟ آپ تو چاند پہ اتر چکے ہیں ۔ مریخ پہ اپنے آلات اتار چکے ہیں ۔ پھر آپ یہ کہیں کہ میں نے سردیوں کے موسم میں یہ کارنامہ سرانجام دینا ہے، جو کہ گرمیوں کی نسبت کئی گنا زیادہ مشکل ہے ۔ پھر آپ یہ کہیں کہ میں نے آکسیجن استعمال کیے بغیر یہ کارنامہ سرانجام دینا ہے؟

پہلے یہ جنگ تھی پہاڑ پیدل سر کرنے کی۔ جب بہت سوں نے کر لیا تو پھر سردیوں میں فتح کرنے کا چیلنج پیدا ہوا۔ جو لوگ کوہ پیمائی کے دوران آکسیجن استعمال کرتے ہیں، کوہ پیمائوں کی برادری انہیں دھوکے باز نہیں تو کمتر ضرور سمجھتی ہے ۔ چند ہفتے قبل جس نیپالی ٹیم نے کے ٹو کو پہلی بار سردیوں میں فتح کیا، اس کے سربراہ نرمل پرجا کے علاوہ سب آکسیجن استعمال کر رہے تھے۔

آکسیجن کا اس کہانی میں بہت اہم کردار ہے۔ جسم اور دماغ کو توانائی حاصل کرنے کے لیے ہر لمحہ آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے ۔ چھ ہزار میٹر کی بلندی پر آکسیجن کی مقدار اور کرّہ ہوائی کا دبائو بہت کم ہو جاتاہے ۔ سانس لینا مشکل ہو جاتا ہے۔ یہ لوگ اپنے جسم کو کم آکسیجن پر زندہ رہنے کا عادی بناتے ہیں اور یہ ایک انتہائی خطرناک کام ہے۔ آکسیجن کی کمی سے آپ کے جسم اور دماغ کو کوئی بھی نقصان پہنچ سکتا ہے اور وہ دائمی بھی ہو سکتا ہے ۔

آٹھ ہزار میٹر کی بلندی پر وہ مقام آتا ہے ، جہاں آپ کا جسم اتنی کم آکسیجن کا عادی ہو ہی نہیں سکتا۔ کے ٹو کی بلندی آٹھ ہزار چھ سو گیارہ میٹر ہے۔ آٹھ ہزار سے بلند مقام کو ڈیتھ زون کہا جا سکتاہے۔ یہاں آپ کے پاس کل 16سے 20گھنٹے کا وقت ہوتا ہے۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے، جب آپ کا دماغ آکسیجن کی کمی سے پھٹ رہا ہوتا ہے اور آپ کے اعصاب شل ہو چکے ہوتے ہیں۔ جسم انتہائی کمزوری محسوس کرتا ہے۔

محمد علی سدپارا نے ایک بار کہا تھا کہ وہ اپنے بچوں کو اس شعبے میں نہیں لانا چاہتا، اس لیے کہ یہ ایک انتہائی خوفناک کام ہے ۔ اگست 2018 میں گیارہ انتہائی تجربہ کار کوہ پیما کے ٹو پہ ہلاک ہو گئے تھے۔ آکسیجن زندگی ہے۔ زندگی آکسیجن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ﷲ نے آکسیجن پیدا کرکے اسے زمین کی فضا میں مقید کر دیا ہے ۔ کبھی زکام کی وجہ سے سانس لینے میں دقت ہوتو آپ سمجھ سکتے ہیں کہ آکسیجن کیا چیز ہے۔ جسم کو غذا چاہئے اور آکسیجن۔ کچھ دیر اگر اسے آکسیجن نہیں ملے گی تو وہ مر جائے گا یا ہمیشہ کے لیے فالج زدہ ہو جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ انسان کو اگر ساری دنیا کی دولت اور آکسیجن میں سے ایک کا انتخاب کرنا پڑے تو اسے خاموشی سے آکسیجن اٹھا لینی چاہئے۔

وہ چار لوگ جو کے ٹو فتح کرنے گئے، ان میں سے ایک مر گیا۔ جب کہ سردیوں میں بغیر آکسیجن کے ٹو فتح کرنے میں موت کا خطرہ پچاس فیصد سے بھی زیادہ ہوگا۔ گو کہ محمد علی سدپارا کے پاس ریڈیو ٹرانسیمٹر اور سیٹلائٹ فون موجود تھا۔ ایک ایسا سسٹم موجود ہونا چاہئے کہ کے ٹو پر موجود کوہ پیما اگر ہر گھنٹے کے بعد ایک بٹن نہ دبا پائے تو پوری قوت سے اس کی تلاش شروع کر دی جائے۔ اس مقصد کے لیے ہیلی کاپٹر اور کوہ پیما انتہائی الرٹ ہونا چاہئے تھے۔

محمد علی سدپارا سمیت ہر کوہ پیما کے پاس آکسیجن موجود ہونی چاہئے ، موت کو سامنے دیکھ کر جسے وہ استعمال کر سکے۔ ہنگامی صورتِ حال میں اسے اس قابل ہونا چاہئے کہ چار پانچ روز آکسیجن اور خوراک استعمال کر کے زندہ رہ سکے۔ جب تک کہ امداد مہیا نہ ہو جائے ۔

آکسیجن کی کمی سے ہوتا کیا ہے ؟ تھکن، متلی، سردرد، توازن برقرار رکھنے میں دِقت،برین سویلنگ کی وجہ سے کنفیوژن Impared Judgement۔کھانسی اور چھاتی میں Congestion۔سانس لینے میں دِقت،تیزدھڑکن،آخر وہ بے ہوش ہو جاتا ہے ۔ خون گاڑھا ہونے لگتا ہے ۔ آسیب نظر آتے ہیں ۔ایسے کوہ پیما بھی موجود ہیں ، جو بظاہر ٹھیک ٹھاک واپس آئے۔ بعد ازاں انہیں دماغی مسائل سے گزرنا پڑا۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اوپر آپ لینے کیا گئے ہیں ؟ جواب عزت اور چیلنج۔ پوری دنیا کے سخت ترین لوگوں کے درمیان مقابلہ ہے اور کوئی شک نہیں کہ محمد علی سدپارا نے دنیا میں پاکستان کا نام روشن کیا لیکن یہ موت کا راستہ ہے۔ موت اس پیکیج کا حصہ ہے، جس میں انسان کو ناموری ملتی ہے۔ محمد علی سدپارا ساری زندگی ایک غریب مزدور ہی رہتا۔ نامور ہونے اور خاندان کو آسائش فراہم کرنے کے لیے اس کے پاس اور کوئی راستہ نہیں تھا!

اپنا تبصرہ بھیجیں