سینیٹ کی دو نشستوں کیلیے اتحاد قربان نہیں کر سکتے: ایم کیو ایم اراکین کی رائے

تین مارچ کو ہونے والے سینیٹ انتخابات کے لیے سیاسی جوڑ توڑ عروج پر ہے اور پیپلز پارٹی کے بعد پاکستان تحریک انصاف بھی کراچی میں سرگرم ہو گئی ہے۔

پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم میں ایڈجسٹمنٹ کے امکانات پر پی ٹی آئی بھی سرگرم ہو گئی ہے اور تحریک انصاف کے چیف آرگنائزر سیف اللہ نیازی کے اعزاز میں دیے گئے ظہرانے میں اتحادیوں کو شرکت کی دعوت دی گئی جس میں جی ڈی اے کے صدرالدین شاہ راشدی، حسنین مرزا، شہریار مہر اور دیگر شریک ہوئے مگر مدعو کیے جانے کے باوجود ایم کیو ایم پاکستان کے کسی رکن نے شرکت نہیں کی۔

دوسری جانب سینیٹ میں پیپلز پارٹی کی پیشکش پر ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے سوچ بچار کے لیے آج شام رابطہ کمیٹی کا اہم اجلاس بلا لیا گیا ہے۔

متحدہ قیادت نے تمام اراکین صوبائی اسمبلی کو کراچی پہنچنے کی ہدایت کر دی ہے، اراکین اسمبلی کو تین روز تک کراچی میں مخصوص مقامات پر ٹھہرایا جائے گا اور تمام اراکین ووٹ ڈالنے ایک ساتھ اسمبلی پہنچیں گے۔

ایم کیو ایم اراکین کی جانب سے یوسف رضا گیلانی کو ووٹ عمران خان پر عدم اعتماد کے مترادف ہو گا اور اس حوالے سے ایم کیو ایم اراکین کی رائے ہے کہ سینیٹ کی دو نشستوں کے لیے اتحاد قربان نہیں کیا جاسکتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں