خیبرپختونخوا:سالانہ مالی بجٹ 22-2021 آج پیش کیا جائے گا

خیبرپختونخوا کا سالانہ بجٹ برائے مالی سال 22-2021 آج پیش کیا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق خیبرپختونخوا کے آئندہ بجٹ کا تخمینہ ایک ہزار ارب روپے سے زائد لگایا گیا ہے، بجٹ میں سالانہ ترقیاتی پروگرام کے لئے 350 ارب روپے سے زائد رکھنے کی تجویز دی ہے۔

زرائع کے مطابق پشاور میں بندوبستی اضلاع کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کے لے 150 روپے مختص کرنے کی تجویز دی ہے جبکہ قبائلی اضلاع کے سالانہ ترقیاتی بجٹ کےلئے 120 ارب روپے سے زیادہ رکھنے کی تجویز دی ہے،غیرملکی امداد کی مد میں ملنے والے 89 ارب روپے بھی اے ڈی پی میں شامل کرنے کی تجویز دی ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ: ایکسلیریٹیڈ اپملیمنٹیشن پلان کے تحت وفاق سے 36 ارب روپے ملیں گے، : اے آئی پی پلان کے تحت ملنے والی رقم قبائلی اضلاع کے اے ڈی پی میں شامل ہوگی، این ایف سی ایوارڈ کے تحت ضم اضلاع کے لئے ملنے والے 40 ارب روپے اے ڈی پی میں شامل ہونگے۔

ذرائع نے بتایا کہ اے ڈی پی میں 80 فیصد رقم جاری منصوبوں پر خرچ کی جائے گی، اے ڈی پی میں 20 فیصد رقم نئی اسکمیوں پر خرچ کیے جائے گےجبکہ اے ڈی پی میں ہائی امپیکٹ اسکیموں کے لیے 75 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی ہے اور بجٹ میں کسان کارڈ اور راشن کارڈ اسکیمیں شامل کرنے کی تجویز دی ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ بجٹ میں فنکاروں، اداکاروں کی امداد کےلئے 50 کروڑ روپے انڈومنٹ فنڈ مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے اور گریڈ 1 سے 18 تک ملازمین کی تنخواہوں میں 25 فیصد اضافے کی تجویز بھی دی گئی ہے اس کے علاوہ بجٹ میں گریڈ 19 سے گریڈ 22 تک ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافے کی تجویز دی ہے۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ سے خزانے پر 40 ارب روپے بوجھ پڑے گا، بجٹ میں مزدوروں کی اجرت کم از کم 21 ہزار روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے اس کے علاوہ بجٹ میں صحت کارڈ میں جگرکی پیوند کاری اور او پی ڈی سروسز شامل کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں